گندہ ہے پر دھندہ ہے یہ، 20 ہزار پاکستانی لڑکیاں چین سمگل

پاکستان میں چین کے تعاون سے سی پیک پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد سے پیسوں کے لالچ میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کو چینی مردوں کے ساتھ شادی کے نام پر سمگل کیے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اس سلسلے کو تمام تر دعووں کے باوجود روکنے میں مکمل ناکام ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سال 2020 کے آغاز سے پہلے 2018 اور 2019 میں بیس ہزار پاکستانی لڑکیاں چین سمگل کی جا چکی ہیں۔
نام نہاد شادی کے بعد چین لیجائی جانے والی لڑکیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے، انکے اعضاء کی فروخت اور جسم فروشی کے لیے استعمال کیے جانے کے درجنوں کیسز سامنے آنے کے باوجود اس گھناؤنے کاروبار سے وابستہ عیسائی پادری اور دیگر پاکستانی افراد بلا خوف وخطر آج بھی سہولت کار بنے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں پاکستان اور چین دونوں ممالک ان واقعات کے سدباب کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ان خبروں پر چینی حکام کی طرف سے سخت ردعمل آنے کے بعد سے حکومت پاکستان نے عملی طور پر یہ سلسلہ روکنے کے لیے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا ہے۔
یاد رہے کی گزشتہ برس پاکستانی خواتین کی چینی مردوں سے شادی کی آڑ میں ہونے والی انسانی سمگلنگ کی خبریں آنے کے بعد پاکستانی حکام حرکت میں آگئے تھے جس کے نتیجے میں 50 کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور ایف آئی اے نے دعوی کیا تھا کہ لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اب بی بی سی کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ شادیوں کے نام پر پاکستانی لڑکیوں کی چین سمگلنگ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں خیبر پختونخواہ کے شہروں مردان، پشاور اور چارسّدہ میں درجنوں چینی مردوں کے رشتے کروائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں لڑکیوں کے خاندانوں سے چینی افراد کی بجائے ان کے پاکستانی سہولت کاروں نے معاملات طے کیے اور شادیاں اسلام آباد جا کر ہویئں۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں موجود خاندانوں کے مطابق 2019 تک رشتے طے کرنے والے گروہ میں ایک خاتون، چار مرد اور ان کے ساتھ ایک یا دو مترجم ہوتے تھے۔انہی میں سے چند لوگ سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔
پاکستان میں چینی مردوں سے خواتین کی شادیوں کے بارے میں خبریں نشر ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی طرف سے وزیرِ اعظم کو جون 2019 میں ایک تفصیلی رپورٹ بھیجی گئی تھی جس کے مطابق سمگل ہونے والی خواتین کی تعداد 629 ہے۔اس رپورٹ کے ملنے کے بعد حکومتی ذرائع کے مطابق تقریباً 50 چینی باشندوں اور ان کے سہولت کاروں کو پنجاب کے مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا تھا۔لیکن حال ہی میں ایف آئی اے سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ گرفتار شدہ افراد میں سے صرف ایک پر مقدمہ چل رہا ہے جبکہ باقی تمام افراد کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ ایف آئی اے سے منسلک سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل خان میو کے مطابق پاکستان سے سمگل ہونے والی خواتین کے اعضا، خاص کر بچہ دانی نکال کر بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق جن خواتین کو جسم فروشی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا، اُن کے جسم کے مختلف اعضا بیچ دیے جاتے ہیں لیکن یہ ساری تفصیلات دینے اور فیصل آباد میں آپریشن کر کے ان گروہوں کو پکڑنے کے فوراً بعد جمیل خان میو کا خیبر پختونخواہ تبادلہ کر دیا گیا جس کے بعد سے وہ مسلسل خاموش ہیں۔
تاہم اگست 2019 میں اقوامِ متحدہ کے ایک سیمینار میں ایف آئی اے کے سینیر افسران نے بتایا کہ 2018 سے اب تک پاکستان سے 20000 خواتین کو چین سمگل کیا جا چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاوہ، خواتین کو پاکستان کے شہر کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے بھی سمگل کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ شادی یا بہتر آمدنی کے مواقع ملنے سے جڑی ہے لیکن یہ اعداد و شمار دینے کے بعد ایف آئی اے کے افسران اس بارے میں مزید بات کرنے سے گریزاں تھے۔
اپریل 2019 میں لاہور میں رہائش پذیر تقریباً آٹھ لڑکیوں نے شہر کے مختلف تھانوں میں ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ ان تمام ایف آئی آرز کا متن ایک ہی تھا۔لڑکیوں نے اپنے والدین، رشتہ کروانے والے اداروں اور پادریوں پر الزام لگایا تھا کہ ان کی شادیاں پیسوں کے عوض زبردستی اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے کی جا رہی ہیں۔ چین میں شادیوں کی بات سامنے آنے کے بعد ان ایف آئی آرز کی تعداد بڑھ کر 13 ہوگئی۔ بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے پچھلے سال پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی شادیاں ایشیا کے پانچ دیگر ممالک میں ہونی والی شادیوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی باشندوں نے پاکستان کے مقامی افراد بالخصوص عیسائی پادریوں کو ساتھ ملا کر غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو چین میں اچھے مستقبل کا لالچ دے کر انسانی سمگلنگ کا جو گھناؤنا دھندہ شروع کیا ہے، حکومت پاکستان معاشی مصلحتوں کے پیش نظر اسے روکنے میں فعال نظر نہیں آتی۔ سونے پر سہاگہ کہ چینیوں سے شادی کرکے برباد ہونے والی لڑکیوں ہے غریب والدین عدالتوں میں چینیوں کے خلاف مقدمات کی پیروی نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ باعزت بری ہوجاتے ہیں۔
