ہیرو کی بجائے ولن بننے کے باوجود احسن خان نمبر ون

پچھلے کچھ عرصے سے ٹی وی ڈراموں میں ہیرو کی بجائے ولن کا کردار ادا کرنے کے باوجود معروف اداکار احسن خان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ ڈرامہ سیریل قصہ مہربانوکا ہو یا اڈاری، احسن خان ایک عرصے سے ہیرو کی بجائے ’اینٹی ہیرو‘ کے روپ میں نظر آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ منفی کردار ادا کرنے پر احسن خان پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن پھر بھی انکی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں ائی جس کی وجہ ان کی سنجیدہ اداکاری ہے۔
جب احسن خان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ڈراموں میں ہیرو کی بجائے اینٹی ہیرو کا کردار اپنی مرضی سے لیتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ایسا ہی یے۔ اینٹی ہیرو کردار میں نے اپنی مرضی سے چنے تھے۔ قصہ مہربانو کا میں کردار نبھانے سے پہلے میں نے خاصی طویل سوچ بچار کی کیونکہ میں نے کچھ عرصہ قبل ایک منفی کردار نبھایا تھا۔

انہون نے کہا کہ ہمارے ڈراموں میں ایک جیسی کہانیاں اور سکرپٹ چل رہے ہیں چنانچہ میں نے سوچا کہ ہیرو کا کردار کرنے کی بجائے اینٹی ہیرو بن کر دیکھا جائے اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ احسن مختلف کردار نبھانے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں کردار وہ چنوں جس کے گرد کہانی گھومے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں نے عام طور پر آفر ہونے والے دقیانوسی کہانیوں پر مبنی سکرپٹ پہلے کئی مرتبہ نبھا لیے ہیں، جیسے ہیرو کو دو لڑکیوں سے محبت ہو گئی، یا وہ پھنس گیا محبت کر کے، یا اسے دفتر میں کسی سے محبت ہو گئی وغیرہ۔۔۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ میں کچھ عرصے میں دوبارہ وہ کردار بھی نبھاؤں لیکن مجھے منفی کردار نبھانے میں مزا آنے لگا ہے۔ کیونکہ ایسے کرداروں میں فنکار کے پاس خاصا مارجن ہوتا ہے، ڈرامہ ’قیامت‘ میں میرا کردار کسی اور طرح لکھا گیا تھا، لیکن میں نے اسے مختلف انداز میں نبھایا۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے شیشے کو پگھلا کے مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا ہے، ویسے ہی یہ بھی ایک فن ہے کہ آپ کو ایک کردار دے دیا جائے اور آپ اسے مختلف انداز میں ڈھال دیں۔‘

کیا سجل علی اور احد رضا میر دوبارہ اکٹھے ہو گے؟

لیکن احسن کہتے ہیں کہ انہیں منفی کردار نبھانے کے بعد فیڈبیک میں آنٹیوں سے ڈانٹ بہت پڑتی ہے۔ احسن بتاتے ہیں کہ انھیں ’آنٹیاں کہتی ہیں کہ کیا کر رہے ہو تم اس بیچاری کے ساتھ۔ اور یہ ہر دفعہ ہوتا ہے، جب بھی میں کچھ ایسا کرتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ آنٹی جی یہ اصل میں نہیں ہو رہا، آپ تسلی رکھیں میں ایسا انسان نہیں ہوں۔۔۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اداکاری بات بھی اسی چیز کی ہے کہ آپ لوگوں کو کتنا یقین دلوا سکتے ہی اور جب ہم کوئی غیرمعمولی کردار نبھاتے ہیں ’تو اس پر زیادہ بات ہوتی ہے، یہ قدرتی بات ہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں منفی فیڈبیک ایک مختلف انداز میں بھی ملتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب آپ ٹیلی ویژن پر چیزوں کو دکھاتے ہیں تو آپ انھیں نارملائز بھی کر دیتے ہیں، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ اسے سنسنی پھیلانے کے انداز میں بیان کریں، یا اسی بری شخصیت یا منفی پہلو کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں تو پھر بات صحیح بھی ہے کہ آپ اسے کسی بھی صورت اس روشنی میں نہ دکھائیں کہ وہ صحیح لگے۔ ’بطور فنکار جب آپ کو سکرپٹ ملتا ہے تو آپ کو بہت محتاط ہونا چاہیے۔‘

ایکٹنگ کے علاوہ احسن خان کا ایک اور بھی روپ دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ ان کی ٹیم وی پروگراموں کی میزبانی ہے۔ احسن خان اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اپنے کیریئر میں کافی طویل عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں میزبانی کر سکتا ہوں۔ ’آغاز میں لائیو شو کی میزبانی کرنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ میں یہ کام بھی کر سکتا ہوں۔

احسن خان اب ایک سال سے ‘ٹائم آؤٹ ود احسن خان’ نامی تی وی شو کی میزبانی کر رہے ہیں اور انھیں کافی پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام شو کے مخصوص حصے سکرپٹ کے مطابق ہوتے ہیں لیکن عام گفتگو وہ سکرپٹ کے حساب سے نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ سب لوگ جو پروگرام میں آتے ہیں مجھے جاتنے ہیں اور میں انھیں جانتا ہوں، اس لیے وہ میرے ساتھ ریلیکس ہو کر بات کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھ سے اگر کوئی بات کر بھی لیتے ہیں تو وہ اسی لیے کرتے ہے، لیکن ان کی پرائیویسی کا خیال رکھا جاتا ہے۔

Back to top button