خدا ہونے کا یقیں

تحریر: حماد غزنوی ۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ: روزنامہ جنگ
شداد، فرعون، نمرود وغیرہ ہماری ہوش سے پہلے کے کردار ہیں، ان کے بارے میں پڑھا تو ہے لیکن ہم نے انہیں چلتے پھرتے، ہنستے بولتے، چائے پیتے نہیں دیکھا۔لیکن جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ فیض حمید نے الوہیت کا کوئی باقاعدہ دعویٰ تو نہیں کر رکھا تھامگر ان کے خدائی رویوں سے خلقِ خدا خوب آشنا بھی تھی اور خائف بھی، وہ سیاہ و سفید پر تصرف رکھتے تھے، خود کو محیی اور ممیت گردانتے تھے، متکبر تھے، جبار تھے قہار تھے، یعنی بہ زعمِ خویش قادر مطلق تھے۔ بہرحال، اب انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انہیں کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔
یہ واضع رہے کہ انہیں الوہیت کے جھوٹے دعویٰ پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کے ادارے نے انہیں تحویل میں لیتے ہوئے دو الزامات لگائے ہیں، ایک تو کسی ہاوئسنگ سوسائٹی ہتھیانے کی کوشش کا کیس ہے، اور دوسرا الزام جو مشتہر کیا گیا ہے وہ بعد از ریٹائرمنٹ آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ہائوسنگ سوسائٹی والے کیس کی مہیب تفصیلات برطرف، یہ ایک سیدھے سادے ڈاکے کا کیس بھی ہے، جس میں ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک کے گھر سے کروڑوں روپے نقد اور چار سو تولہ سونا لوٹا گیا، لیکن اس ڈاکے کا سب سے تاسف انگیز پہلو یہ ہے کہ فیض حمید نے اس حرکت کے لیے اپنے ادارے کے اہل کاروں کو استعمال کیا جس سے عوام میں ایک محترم ادارے کی تکریم پر حرف آیا۔ اور جہاں تک بعد از ریٹائرمنٹ ’نازیبا‘ حرکات کا الزام ہے، اس کی تفصیلات طشت از بام نہیں کی گئیں، سو آ ئیں دو جمع دو کرتے ہیں۔
آرمی چیف بننے کے خواب دیکھنے والا فیض کورٹ مارشل تک کیسے پہنچا
ہماری خفیہ ایجنسیاں مدتوں سے قصرِ سیاست کی غلام گردشوں میں چُھپن چُھپائی کھیلتی رہی ہیں، حمید گُل، پاشا اور ظہیرالسلام اس کھیل کے ’مایہ ناز‘ کھلاڑی رہے ہیں اور ان کے سینوں پر آئینی حکومتوں کے خلاف سازشوں کے کئی وزنی تمغے جُھول رہے ہیں۔ مگر طلائی تمغے کے اصل حق دار کا ظہور ابھی باقی تھا۔ فیض حمید نے ایک معیوب روایت کو نقطہء عروج تک پہنچا دیا۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں، فیض حمیدایک دم نہیں ہوتا۔ ان صاحب نے اپنے ادارے کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ جو ناقابلِ فخر روایت ہمیشہ پسِ پردہ رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی اسے بے نقاب کر دیا، جو عمل تاریکی میں چھپ کر کیا جاتا تھا وہ حرکت دن دہاڑے کوٹھے پر شروع کر دی۔ ہمارے ہاںعدلیہ کا بازو مروڑنے کی روایت کے بانی فیض حمید تو نہیں ہیں، مگر جس دھڑلے اور تسلسل سے یہ کام فیض حمید نے کیا اس کی مثال نہیں ملتی، یعنی موصوف بہ نفسِ کثیف جسٹس شوکت صدیقی سے فرماتے ہیں کہ ہماری دو سالہ محنت ضائع نہیں ہونی چاہیے، جو ہم کہہ رہے ہیں بس وہ کرو، چھوڑو عدالت کو اور انصاف کو اور اپنے حلف کو اور اپنے ضمیر کو۔خفیہ ایجنسیاں اہم لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کا شوق توہمیشہ سے رکھتی ہیں، مگر فیض حمید نے اس کھیل کو بھی توڑ تک پہنچایا، جس جس کمرے میں کیمرا لگ سکتا تھا، لگوایا، اور پھر ان فلموں کا کھڑکی توڑ استعمال کیا، یہاں تک کہ اپنے عزیز از جان حلیف عمران خان کو بھی نہیں بخشا۔’’Assets ‘‘ پالنے کا شوق تو فطرتِ خاکی میں ازل سے تھا، مگر برہنگی کا یہ عالم نہیں تھا، ملی مسلم لیگ اور ٹی ایل پی جیسے نوادرات فیض ساختہ و پرداختہ تھے، اس سے سیاست و معاشرت میں کتنے ’’تن سر سے جدا‘‘ ہوئے یہ فیض حمید کا مسئلہ نہیں تھا۔
فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے نے فیض حمید کوکوہِ رسوائی کی پھننگ پر پہنچا دیا، مگر انہوں نے دل برا نہیں کیا اور دل و جان سے قاضی فائز عیسیٰ کو عدلیہ سے نکالنے کی کوششوں میں جُت گئے۔ فیض حمید، شوکت صدیقی کو کام یابی سے نکلوا کر اور فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنوا کر، خود بھی برہنہ ہوتے گئے اور پورے نظام کو بھی بے ستر کرتے چلے گئے۔ ایجنسیاں سیاست میں مداخلت کی شوقین تو ابتدا سے رہی ہیں، مگر ایک سیاسی پارٹی کو اپنے ایک ڈیسک کے طور پر چلانے کا انوکھا تجربہ بھی فیض حمید نے کر کے دکھایا، پہلی دفعہ پارلے مان کے اندر ایک افسر بٹھا کر ببانگِ دہل پورے نظام کی توہین کی گئی۔ میڈیاکو لگام ڈالنے کی خواہش تو ابتدا سے آج تک موجود ہے، مگر اس کام میں بھی جو جبروقہر فیض نے عام کیا وہ کوئی فرعونِ دوراں ہی کر سکتا تھا۔سادہ لفظوں میں فیض حمید وہ صاحب تھے جنہوں نے ملک کے نظام کو روند کر رکھ دیا۔ مگر یاد رہے کہ ان کی گرفتاری مذکورہ گناہوں کے باعث عمل میں نہیں لائی گئی، یہ گناہ تو ہماری نگاہوں میں گناہِ کبیرہ ہیں، مگر کچھ حلقوں میں یہ روزمرہ کےمعمولات میں شامل ہیں۔ اگر ان گناہوں کی پاداش میں فیض حمید کو گرفتار کیا جاتا تو پھر تونہ جانے کون کون گردن سے پکڑا جاتا۔
اب آ جائیے فیض حمید کے خصوصی گناہوں پر، مختصراً، وہ نو مئی کی واردات کے نقشہ ساز سمجھے جاتے ہیں، جنرل عاصم منیر کی تعیناتی رکوانے کے لیے فیض حمید نے بہت سے ہتھکنڈے استعمال کئے ، کئی سازشیں کیں، کتنے ہی دام بچھائے،اور سب سے بڑھ کر انہوں نے ادارے کے اندر گروہ بندی کرنے کی کوشش کی اور شنید یہی ہے کہ اس حرکت سے وہ اب بھی باز نہیں آ رہے تھے۔ بہرحال، اب فیض حمید کو سمجھ آئے گی کہ ان کے اکثر پیش رو بعد از ریٹائرمنٹ دیارِ غیر کو اپنا مسکن کیوں بناتے رہے ہیں۔ بلا شبہ، فیض حمید اپنے وقت میں جبروت کی علامت سمجھے جاتے تھے، خلقِ خدا ان کے جبر و قہر سے پناہ مانگتی تھی، چہار دانگ ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔اس وقت فیض حمید گرفتار ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں…خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا۔
