عمران کی فوج کیخلاف بغاوت کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی کوشش اس لیے ناکامی سے دوچار ہوئی کہ اس خطے میں کبھی کوئی بغاوت کامیاب ہوئی ہی نہیں۔ صدیوں کے سبق کے نتیجے میں یہاں کے باسی سب کچھ سہہ لیتے ہیں اور اف بھی نہیں کرتے اس لیے بغاوت تو کیا یہاں اختلاف کی بھی روایت نہیں۔
عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ پورے برصغیر میں تہذیب ایک ہی ہے لیکن زبانیں مختلف ہیں‘ عبادت اور پوجا کرنے کے طریقے مختلف ہیں‘ چہروں کی رنگت مختلف ہے لیکن بنیادی طور پر تہذیب ایک ہے۔ بر صغیر کے باسیوں کے تصوراتِ زندگی ملتے جلتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا یقین ہے کہ جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے، کیونکہ تقدیر لکھی ہوئی ہوتی ہے لہٰذا انسان بے بس ہے کیونکہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی عجوبہ نہیں کہ جوتشیوں اور ستاروں پر یقین رکھا جاتا ہے اور وہ بھی یہ جاننے کے لیے کہ جو ہونا ہے وہ کیا ہے۔ تقدیر یا نصیب میں کیا لکھا گیا ہے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ بر صغیر کی تہذیب میں بغاوت کا عنصر نظر نہیں آتا۔ یہاں کے باسی اپنی تقدیر خود لکھنے پر یقین نہیں رکھتے اور اصرار کرتے ہیں کہ جوبتقدیر لکھی گئی وہ کیسے مٹ سکتی ہے۔ اسلیے وہ بغاوت کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ جب بر صغیر میں مسلمان آئے تو ان کی حکمرانی مان لی گئی۔ انگریز آئے تو برصغیر کے سارے لوگ یکے بعد دیگرے ان کے سامنے سرنگوں ہوتے رہے۔ ایک دو جو سرنگوں نہ ہوئے وہ مارے گئے۔ جب انگریز گئے تو ان کی جگہ دیسی حکمرانوں نے لی تو لہازا کوئی کتنا بھی نکما حاکم بنا اسے برداشت کیا گیا۔ باسی کیے آج بھی ھرے بازار میں پولیس کا اہلکار کسی راہ گیر کو تھپڑ رسید کر دے تو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ تھانوں اور سرکاری دفتروں میں خدا کی مخلوق ذلیل ہوتی ہے اور اس ذلالت کو کمال صبر اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا جاتا ہے۔ آئے روز پولیس مقابلوں کی خبریں آتی ہیں۔ کم ہی لوگ بولتے ہیں‘ احتجاج کی طرف تو کوئی نہیں جاتا اور ایسے سلسلے چلتے رہتے ہیں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ جب سارے معاشرے کا مزاج صدیوں سے ایسا ہو تو بپھرے پانیوں نے کسی کا کیا بگاڑنا ہے۔ وقتی آہ و پکار ہوتی ہے‘ جن کا پیشہ آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر ‘جہاد‘ کرنا ہے وقتی طور پر لبوں پر جھاگ لے آتے ہیں لیکن جلد ہی جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اس خطے میں جیسے بھی معمول کی زندگی ہے پھر سے چلنے لگتی ہے۔ جتنی اونچ نیچ ہمارے معاشروں میں ہے یعنی جس قسم کی زندگیاں بالائی طبقات بسر کرتے ہیں اور ایک ہی شہر میں جس قسم کی زندگیاں نچلے قسم کے لوگ گزارتے ہیں یہ تفریق کہیں اور ہو تو انقلابِ فرانس کی داستان روزانہ کی بنیاد پر رقم ہو۔ ٹوٹی پھوٹی بستیوں میں لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔
پاکستان مخالف طالبان حکومت سفارتی تنہائی کا شکار کیوں ہے؟
لیکن برداشت کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ لاکھ تکلیفوں کے باوجود ایسے سرکش خیالات دبی ہوئی ذہنیتوں میں نہیں آتے۔ جسے خطِ غربت کہتے ہیں اس کے نیچے ہماری آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ اس بہت بڑے طبقے کی زندگیاں شروع سے اجیرن ہوتی ہیں۔ کھانے کو کافی نہیں ملتا‘ تعلیم کے ذرائع میسر نہیں آتے‘ صحت کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ جسمانی کمی عیاں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر ایسی ویسی نوکریوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ملکی وسائل کی قدرے منصفانہ تقسیم کا ذکر کرنا بھی کسی کفر کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ اس ناہمواری کو بھی نصیبوں کا لکھا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ ہماری موسیقی اور گانے دیکھیے۔ درد بھرے‘ اُداس اور اس احساس سے بھرپور کہ جینا کٹھن ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاںبتو ہیرو بھی اکثر ٹریجک ہیرو ہی ہوتا ہے جب کہ نسوانی کرداروں کی زندگی غموں سے بھری ہوتی ہے۔ کسی طوائف کی زندگی پر مبنی ڈرامہ یا کہانی ہو تو وہ بھی غم سے بھری ہوتی یے۔ ہماری موسیقی کا کمال ہے کہ رقاصہ کے گھنگھروؤں کی جھنکار میں بھی کسی ٹریجیڈی کا عنصر نظر آتا ہے۔ بیشتر شاعری میں عاشق نامرادی کا گمان دیتے ہیں۔
حالات اور تاریخ کے جبر اور کچھ آب و ہوا نے ہمارے معاشروں کو مایوسی پسند بنایا ہے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ جہاں تک پاکستانی معاشرے کا معاملہ ہے تو اس پر بھی سماجی رجعت پسندی کا ایک خول چڑھا دیا گیا ہے۔ جب زندگی کی رعنائی اور خوشی کے اظہار کو بھی پارسائی کے نام پر دبانے کی کوشش ہو تو معاشرے پر مزید بیماری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ پارسائی کے سبق اس تواتر سے بیان کیے جائیں کہ منافقت کا روپ دھار لیں تو وہاں بغاوت کی خُو کہاں قائم رہ سکتی ہے۔ زندگی حرکت اور جستجو کا نام ہے لیکن جہاں زندگی کی ان نشانیوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی جائے وہ معاشرہ صرف بدقسمت ہی کہلا سکتا ہے۔ انسان سوچنے بیٹھے تو حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان کو بنے اتنے سال ہوئے لیکن یہاں کوئی اتنے سرکش سوچ رکھنے والے لیڈر پیدا نہ ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں سرکشی کی چنگاری تھی اسی لیے عوام کے دلوں میں مقبول ہوئے۔ لیکن ان کا دورِ حکمرانی عروج دیکھنے سے پہلے ہی رجعت پسند فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے ہاتھوں ختم ہو گیا۔ رجعت پسندی کی اس چکی میں قوم گیارہ سال پستی رہی۔ وہ ایسا امتحان تھا کہ اس کے نتائج قوم کے چہرے پر آج تک نمایاں ہیں۔
ایاز امیر کے بقول اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود عمران خان بھی ایک سرکش رہنما کہلائے جا سکتے ہیں لیکن ان کی سرکشی تب شروع ہوئی جب پانی سر سے گزر چکا تھا اور انہیں اقتدار میں لانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان کا جھٹکا کروا دیا۔ انہیں علمِ بغاوت پہلے ہی تھام لینا چاہیئے تھا لیکن خوئے بغاوت تب ان کے سر چڑھی جب وہ جنرل قمر باجوہ کے ہاتھوں پِٹ چکے تھے۔ مختصر یہ کہ پاکستان جیسے ملک میں عوامی بغاوت کے خواب دیکھنا کوئی دانشمندی نہیں۔
