پاکستانی عوام سیاست دانوں سے نا امید کیوں ہو چکے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے پاکستانی سیاسی نظام بارے اظہار مایوسی کرتے ہوئے کہا ہے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست ایک وجودی بحران کا شکار ہے، بظاہر یہاں سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں اور سیاسی رہنما بھی، لیکن وہ سیاسی شعور ختم ہو گیا ہے جو کہ سیاسی عمل کو نامیاتی توانائی بخشنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رائے عامہ سیاست سے نا امید ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت کو مسلسل سازش کی دیمک چاٹ چکی ہے۔ ایسی سیاسی قیادت ملک میں بنیادی معاشی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سیاسی اختیار اور معاشی فیصلہ سازی میں یہ فاصلہ ہماری سیاست کا بنیادی المیہ ہے۔
روزنامہ جنگ کیلئے اپنے سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سیاست کا حقیقی مقصد معاشی وسائل کی تقسیم کے لیے فیصلہ سازی کا ایسا بندوبست ہے جس میں عام شہری کے معیار زندگی میں تین اشاریوں پر بہتری لائی جا سکے۔ پہلا شہریوں کی بنیادی ضروریات مثلاً خوراک، علاج معالجہ، تعلیم اور رہائش کی ضمانت ہوتا ہے۔ دوسرا قانون اور نظام عدل کے ذریعے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرتا یے جب کہ تیسرا ایسے نظام کی تشکیل ہے جو مختلف جغرافیائی، لسانی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں میں معاشی فرق اور ترقی کے مواقع کا فرق کم سے کم کر سکے۔دوسرے لفظوں میں سیاسی عمل بنیادی طور پر معاشی سوال ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سیاست کے معاشی تقاضے شفافیت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ جہاں سیاسی عمل کمزور، گدلا اور غیر مستحکم ہو، وہاں معاشی ترقی استحصال، جمود اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ سیاست کو احترام دیے بغیر شہری کی توقیر ممکن نہیں اور بے توقیر شہری اجتماعی سیاسی عمل سے متنفر ہو کر قانون اور اخلاقیات کی پروا کیے بغیر اپنی ذاتی بقا کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔
معروف دانشور کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست ایک وجودی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران کی جڑیں ہمارے ابتدائی برسوں میں پیوست ہیں اور رفتہ رفتہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں پھیل چکی ہیں۔بیسویں صدی کے پہلے نصف میں ہندوستانی سیاست کے دو بڑے دھارے تھے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے نزدیک بنیادی قومی سوال غیر ملکی حکمرانی سے نجات تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ہندوستانی قوم کو غیر فرقہ ورانہ تشخص کی بنیاد پر تحریک آزادی میں شامل ہونا تھا۔ دوسری طرف ہندوستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت یعنی مسلمانوں کی سیاست 75 فیصد غیر مسلم اقلیت کے مقابل آئینی تحفظات کے گرد گھومتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں مسلم آبادی کے لیے بنیادی سوال غیر ملکی حکمرانی سے نجات نہیں بلکہ آزادی کے بعد اکثریتی گروہ کی ممکنہ بالادستی سے تحفظ تھا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ مسلم سیاست صوبائی سطح پر بھی منقسم تھی اور مختلف مذہبی مکاتب فکر بھی مسلم لیگ کی سیاست سے متفق نہیں تھے۔ ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں میں مسلم لیگ کا تنظیمی وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ آزادی کیلئے مذاکرات میں مسلم لیگ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے خلاف تھی لیکن تقسیم ہندوستان کیلئے دیے گئے دلائل پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر بھی منطبق ہوتے تھے۔
آزادی اپنے ساتھ بنگال، بہار اور پنجاب میں فسادات اور انتقال آبادی بھی لے کر آئی۔ پاکستان میں مسلم اقلیتی صوبوں سے آنے والی مسلم لیگی قیادت کو اقتدار میں بڑا حصہ ملا چنانچہ اسکا مقامی سیاسی قیادت سے تصادم ناگزیر تھا۔ جغرافیائی طور پر غیر متصل مشرقی اور مغربی پاکستان میں سیاسی اقتدار میں عدم توازن نے ابتدا ہی میں سیاسی عمل کو کمزور کر دیا۔ طرہ یہ کہ مسلم لیگ کی قیادت نے پاکستان میں اپنے سوا دوسری سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ مشرقی بنگال کی عددی اکثریت کے خوف سے آئین کی تشکیل موخر ہوتی رہی اور پاکستان میں بیورو کریسی، طاقت وروںاور جاگیرداروں میں غیر جمہوری گٹھ جوڑ نے جنم لیا۔ مشرقی پاکستان سیاسی فیصلہ سازی سے بیدخل ہو کر احساس محرومی کا شکار ہو گیا۔ 1951 ہی سے عملی طور پر حکومت سکندر مرزا، جنرل ایوب خان، چوہدری محمد علی اور غلام محمد جیسے کرداروں کے قبضے میں آ گئی۔ لیاقت علی خان کی سیاسی قامت ایسی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں وفاقی سطح پر مفاہمانہ سیاست کو آگے بڑھاتے۔
پاکستان کا پہلا دستور مرتب ہونے سے قبل ہی کوئی درجن بھر صوبائی حکومتیں تحلیل کی گئیں۔ دستور ساز اسمبلی توڑی گئی۔ ون یونٹ بنا کے پارلیمانی سیاست کو تہ و بالا کیا گیا۔ 195 کے مارشل لا کے بعد سیاست دانوں کی کردار کشی شروع ہوئی اور یہ عمل آج تک جاری ہے۔ اس کا مقصد گروہی مفادات کی سیاست کو آگے بڑھانا اور قومی سیاست کو فیصلہ ساز قوت سے محروم کرنا تھا۔ اس عمل کا نکتہ عروج 1977 کا ضیا مارشل کا اور 1985 کے غیر جماعتی الیکن تھے جن کے بعد سیاست نیم مجرمانہ غیر سیاسی عناصر کے ہاتھ تاوان رکھ دی گئی۔
پاک سعود یہ دفاعی ڈیل : 50 ہزار فوجی سعودیہ جائیں گے
سیاسی عمل کی اس بے توقیری کا معاشی نتیجہ تازہ ورلڈ بینک رپورٹ میں دیکھ لیں جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2001 سے 2018 تک پاکستان میں غربت کی شرح 64 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی تھی لیکن گزشتہ آٹھ برس میں غربت کی شرح بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی ہے۔ غربت کے نئے عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ شرح آبادی میں اضافہ 1.9 فیصد ہے جبکہ کل قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 2.6 فیصد ہے۔ کل ملکی قرضہ 134ارب ڈالر کو جا پہنچا ہے۔ سالانہ برآمدات 32ارب ڈالر ہیں جبکہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر ہے۔ گویا ملکی معیشت داخلی ترقی کی بجائے ہوا میں معلق ہے۔ شہریوں کی متوقع زندگی 67 برس ہے جو عالمی متوقع عمر سے کم از کم چار برس کم ہے۔ ۔
وجاہت مسعود کے مطابق سوال یہ ہے کہ رواں صدی کے پہلے دو عشروں میں ایسا کیا کرشما رونما ہوا تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے باوجود معاشی اشاریے آج سے بہتر تھے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ افغان جنگ میں بیرونی امداد کی گنگا بہہ رہی تھی۔ دوسرا 2008ء سے 2018ء تک سیاسی عمل کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا اب ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ بظاہر سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور ان کے مفروضہ رہنما بھی بقید حیات ہیں لیکن جسد اجتماعی سے سیاسی شعور ختم ہو گیا ہے جو سیاسی عمل کو نامیاتی توانائی بخشتا ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان میں رائے عامہ سیاست سے نا امید ہو چکی ہے۔ ایسی سیاسی قیادت ملک میں بنیادی معاشی فیصلے کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سیاسی اختیار اور معاشی فیصلہ سازی میں یہ فاصلہ ہماری سیاست کا بنیادی المیہ ہے۔
