حکومت کو خیبر پختون خواہ میں نیا محاذ کھولنے سے کیوں بچنا چاہیے؟

سینیئر صحافی حامد میر نے پاک افغان سرحدی جھڑپوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو افغانستان کی عبوری حکومت اشرف غنی والی پرو انڈیا پالیسی اپنانے کی کوشش کریں اور ناں ہی شہباز شریف حکومت مشرف کے راستے پر چلنے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ نیا سیاسی محاذ کھولنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حامد میر لکھتے ہیں کہ دونوں طرف سے اللّٰہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے پر راکٹ اور گولیاں برسا رہے تھے۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان یہ معرکہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی وکیل احمد متوکل بھارت کے دورے پر ہیں اور ایک ایسی انتہا پسند ہندو حکومت کے مہمان ہیں جسکی اصل پہچان اسلام دشمنی اور مساجد کو شہید کرنا ہے۔ متوکل کے دورہ بھارت کے دوران بی جے پی کی حکومت اور افغان طالبان کی طرف سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا جس پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا ۔ اس دورے کے دوران افغانستان کے راستے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا جسکے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں حملہ آوروں کے ٹھکانوں پر حملہ کر دیا۔ ان حملوں میں پاکستان کیخلاف جنگ میں مصروف نور ولی محسود کو ٹارگٹ بنایا گیا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ وہ انڈین میڈیا جو ہمیشہ پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام لگایا کرتا تھا ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی محسود کے ٹھکانوں پر حملے کے بعد پاکستان پر افغانستان میں مداخلت کا الزام لگانے لگا۔ حسب توقع بھارت نے افغان طالبان کی خوب حوصلہ افزائی کی جس کے بعد طالبان نے 11 اکتوبر کو پاک افغان بارڈر پر کئی پاکستانی چیک پوسٹوں پر منظم حملے کر دیے۔ ان حملوں میں پاکستان کی سول آبادی کو بھی نقصان پہنچا۔

کیا KP میں عمران خان کا 13 سالہ اقتدار ختم ہونے والا ہے؟

خلاف توقع پاکستانی جواب بہت سخت تھا ۔ پاکستان نے ناصرف بہت سی افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا بلکہ کئی افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا۔ افغان طالبان کی عبوری حکومت کی اس پالیسی کے بعد ملا ہیبت اللہ ، اشرف غنی، حامد کرزئی ، ڈاکٹر نجیب اللہ ، نور محمد ترکئی اور سردار داؤد کی حکومتوں میں فرق ختم ہو گیا ہے ۔ ایک فرق ابھی قائم ہے ۔ بہت سال پہلے ملا محمد عمر ایک مختصر عرصے کیلئے افغانستان کے حکمران بنے تھے ۔ 1996 ء سے 2001 ء کے دوران ان کی حکومت نے پاکستان کیساتھ محاذ آرائی کی پالیسی سے گریز کیا جسکے باعث بھارت نے پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام لگانا شروع کر دیا ۔ اس الزام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملا محمد عمر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی کھل کر مذمت کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر افغانوں کو غیر ملکی تسلط کیخلاف مزاحمت کا حق ہے تو پھر کشمیریوں کو بھی بھارتی تسلط کیخلاف مزاحمت کا حق ہے ۔

نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے جو پالیسی اختیار کی اُس کے باعث پاکستان اور افغان طالبان میں اختلافات پیدا ہوئے لیکن پاکستان کی کوششوں سے ہی افغان طالبان اور امریکا میں دوحہ امن معاہدہ ہوا جسکے تحت امریکی فوج افغانستان سے نکل گئی اور طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ آجکل پاکستان کی موجودہ حکومت اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ٹرمپ کابل کے قریب بگرام ایئر بیس پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان نے ٹرمپ کی اس خواہش کا احترام نہیں کیا اور افغانستان میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر دیا ۔ پاکستان کے اس موقف کے بعد افغان طالبان کو اسلام آباد کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ لیکن افغان طالبان نے بھارت کے ساتھ قربتیں بڑھا کر پاکستان پر دباؤ بڑھانے کوشش کی ۔ اس کوشش کا نتیجہ پاکستان اور افغانستان میں سرحدی جھڑپوں کی صورت میں نکلا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان کی سکیورٹی فورسز بھارت کی ’’پراکسی‘‘کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔

حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کے ارباب اختیار اور افغان طالبان دونوں کو احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ دونوں اطراف کلمہ گو مسلمان ہیں اور دونوں ہی اپنے آپ کو حق پر قرار دیتے ہیں۔افغان طالبان نعرہ تکبیر بلند کر کے پاکستانیوں کو امریکا کا غلام قرار دیتے ہیں اور پاکستانی بھائی نعرہ تکبیر بلند کر کے افغانوں کو مودی کا یار قرار دیتے ہیں ۔ پاکستان یہ مت بھولے کہ افغان حکومت کی پالیسی اور افغان عوام کی سوچ میں ہمیشہ سے بہت فرق ہے۔ پاکستان کی لڑائی افغان حکومت سے تو ہو سکتی ہے لیکن افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔

حامد میر کہتے ہیں افسوس کہ آج افغانستان میں پاکستان کیخلاف وہی سازشیں ہو رہی ہیں جو کرزئی اورا شرف غنی کے دور میں ہو رہی تھیں ۔ افغان طالبان کی موجودہ حکومت ملا محمد عمر کی پالیسی سے ہٹ رہی ہے۔ گزارش یہ ہے کہ ناں تو ملا ہیبت اللہ کی عبوری حکومت اشرف غنی بنے اور ناں شہباز شریف کی حکومت جنرل پرویز مشرف بنے ۔ پاکستان اور افغانستان کے علماء کو چا ہئے کہ دونوں ممالک میں مفاہمت کیلئے کوئی کردار ادا کریں۔ اُن علما کو اس معاملے سے دور رکھیں جنہوں نے پچھلے دو تین سال میں مفاہمت کی بجائے غلط فہمیاں بڑھائی۔ سعودی حکومت نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اس سلسلے میں سعودی عرب کو بھی ثالث بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان کو افغانستان اور ایران کے ساتھ امن ودوستی کے ساتھ ساتھ داخلی معاملات بھی بات چیت سے طے کرنے کی ضرورت ہے۔اسلام آباد کو خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ نیا سیاسی محاذ کھولنے سے گریز کرنا چاہئے۔

 

Back to top button