’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی آخری قسط کے حوالے سے وارننگ

پاکستانی تاریخ کے مقبول ترین ٹی وی ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کے مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے ناظرین کو وارننگ دی ہے کہ کمزور دل حضرات ڈرامے کی آخری قسط بالکل دیکھنے کی کوشش نہ کریں اور اگر بہت ضروری ہو تو دل کی دوائیاں ساتھ رکھ کر ڈرامہ دیکھیں۔
’’میرے پاس تم ہو‘‘ نے پاکستان میں مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ڈرامہ سیریل کی ہر قسط ایک نیا ریکارڈ بنا رہی ہے۔ ہر ہفتےناظرین شدت سے ڈرامے کی اگلی قسط کا انتظار کرتے ہیں، ڈرامے کی 23ویں اور آخری قسط میں کیا ہوگا، اس کا انتظار سب ہی مداح شدت کررہے ہیں۔
اس ڈرامے میں ہمایوں سعید (دانش)، عائزہ خان (مہوش) اور عدنان صدیقی (شہوار) نے مرکزی کردار نبھائے، جبکہ حرا مانی اور سویرا ندیم بھی اہم کرداروں میں جلوہ گر ہوئیں۔ ڈرامے کی کہانی ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کی زندگی پر مبنی ہے جس کی بیوی امیر ہونے کی لالچ میں اسے چھوڑ کر کسی دوسرے مرد کے پاس چلی جاتی ہے۔ ڈرامے کی کہانی کے ساتھ ساتھ اداکاروں کی اداکاری اور کئی مناظر کو مداحوں کی جانب سے بےحد پسند کیا گیا۔
ڈرامے کی آخری قسط کے حوالے سے اسکے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے کچھ حیران کن انکشاف کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرامے کی آخری قسط 60 سے 65 منٹ دورانیے کی ہوگی اور میں لوگوں سے گزارش کروں گا کہ اپنے اپنے دل تھام کر بیٹیھے گا، انہوں نے کہا کہ جو کمزور دل افراد ہیں وہ اپنی دل کی دوائیاں ساتھ لے کر بیٹھیں اور انکے بغیر ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے کا رسک ہرگز نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مذاق نہیں کررہا، ڈرامہ دیکھتے ہوئے میں خود اس تکلیف سے گزرتا ہوں جو ڈرامے کے کردار محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ندیم بیگ نے آخری قسط کو بالکل ایسے ہی فلمایا ہے جیسے کہ میں نے تحریر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور دل والوں کی بات میں صرف مردوں کے حوالے سے کر رہا ہوں کیوںکہ عورتوں کے دل مردوں کے مقابلے میں مضبوط ہوتے ہیں۔ آخری قسط دیکھنے والا شخص اس تڑپ اور تکلیف کو اُسی طرح محسوس کرے گا جیسے ڈرامے میں موجود بدقسمت شوہر نے محسوس کی تھی۔ خلیل الرحمٰن قمر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈرامے میں بچے کا کردار اور اسکی کہانی ‘رومی’ دراصل ان کا اپنا بچپن ہے، اور انہوں نے خود کو سوچتے ہوئے یہ کردار تحریر کیا۔
ڈرامے کی آخری قسط میں مہوش کو دانش سے معافی ملنے کے سوال پر خلیل قمر کا کہنا تھا کہ میری تحریر میں یہی سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے گناہ گاروں کو معاف کردیتا ہے، محبت گناہ گاروں کو معاف نہیں کرتی۔ عائزہ خان کے کردار ‘مہوش’ بارے انہوں نے کہا کہ خدا نے میرے قلم سے وہ چیز لکھوا دی ہے کہ جو بہت ساری خواتین کو سنبھلنے کا موقع دے گی اور مردوں کو یہ سوچنے کا موقع دے گی کہ ایسی کسی عورت کے منہ پر تھپڑ مارنے کی ضرورت نہیں، وہ بدقسمت تو اپنے منہ پر خود تھپڑ مار رہی ہوتی ہے، اس کو بس رخصت کردیجیئے، دعا دیجیئے اور کہیئے آپ ہمارے نہیں تو ہم بھی آپ کے نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘میں نے زندگی میں کبھی کسی پر ترس نہیں کھایا لیکن خدا کی قسم عورت کے ہاتھوں برباد ہوئے مرد پر میں ترس کھاتا ہوں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button