وہ فنکار جن کی کامیابی ان کی ماؤں کی مرہون منت ہے ہے

مائیں پیار محبت اور قربانی کا مجسمہ سمجھی جاتی ہیں۔ اکثر شوبز اسٹارز اپنی ماؤں کی قربانیوں اور ان کی لازوال محبت کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔
کامیاب اور خوبصورت اداکارہ مہوش حیات کی والدہ رخسار اسی کی دہائی کی بہت مشہور ڈرامہ آرٹسٹ تھیں، لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی خاطر عروج پر ہونے کے باوجود اپنا شوبز کیرئیر ختم کردیا۔ مہوش کی یادوں میں اپنی ماں کی یہ قربانی آج بھی تازہ ہے، وہ لکھتی ہیں کہ کئی بچے اپنے والدین کی ایسی بڑی قربانیاں بھلا دیتے ہیں، میری ماں آج بھی ایک بہت کامیاب اور صف اول کی اداکارہ ہوتیں لیکن انہوں نے کیریئر پر توجہ دینے کی بجائے اپنے بچوں پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا تا کہ ہم اپنی زندگیوں میں کچھ بہتر کر پائیں اور بن پائیں۔ مہوش کے مطابق انکی ماں بہت مضبوط خاتون ہیں اور انہوں نے بہت سخت اور ناقابل یقین حالات میں بھی ہمیں اپنے پیروں پر کھرا کر دیا۔ مہوش کو فخر ہے کہ مجھے ایسی مضبوط ماں نے پالا ہے۔
معروف اداکار اور میزبان فیصل قریشی کی یادوں میں آج بھی ان کی ماں کی وہ انتھک محنت محفوظ ہے جو انہوں نے والد کے انتقال کے بعد دن رات کی، فیصل قریشی کی والدہ افشاں قریشی ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ ہیں وہ فیصل کی کافی پٹائی بھی لگاتی تھیں خاص طور پر اگر وہ بہانے سے کرکٹ کھیلنے کےلئے کہیں غائب ہوجاتے۔ ایک مرتبہ تو فیصل قریشی نے اپنی امی کو ڈرا ہی دیا تھا، وہ چھوٹے سے تھے اور کرکٹ کھیلنے کہیں دور چلے گئے اور ان کی والدہ کا رو رو کر برا حال ہوگیا، فیصل کی والدہ اپنے کام کے دوران انکو بھی
اپنے ساتھ پی ٹی وی لے کر جاتیں اور شوٹس پر بھی۔ساتھ رکھتی تھیں۔ وہ فیصل کو ہر اس جگہ لے کر جاتیں جہاں جاکر اسے یہ احساس نہ ہو کہ آج میرا باپ زندہ ہوتا تو میں یہ بھی کر سکتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج فیصل قریشی شوبز کا ایک کامیاب اداکار اور میزبان ہے۔

گلوکار فرحان سعید اکثر اپنی والدہ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں جن کی بدولت آج وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو میری امی اکثر میری بہت ساری باتیں ابو سے چھپا لیا کرتی تھیں تاکہ میں کسی خوف کا شکار نہ ہوجاؤں اور میرے خوابوں پر کوئی بھی روک ٹوک نہ ہو حالانکہ میرے ابو کوئی بہت سخت انسان نہیں تھے لیکن میری امی نہیں چاہتی تھیں کہ میری کوئی بھی خواہش ادھوری رہے۔ انہون نے کہا کہ اکثر بچوں کو باپ کا خوف ہوتا ہی ہے لیکن میری امی مجھے ہر موقع پر سپورٹ کیا۔ وہ ابو سے چھپ کر مجھے ہر اس جگہ بھجوا دیتی تھی جہاں میں جانا چاہتا تھا۔ کسی دوست کے گھر، کسی کنسرٹس پر، کرکٹ میچ پر یا اسکول ٹرپس پر بھی۔ وہ ایسا اسلیے کرتی تھیں تاکہ میری شخصیت مضبوط رہے، لوگ کہتے ہیں کہ ماں آپ کا پہلا اسکول ہوتی ہے لیکن میری ماں میرے لئے پوری کائنات ہے۔
اداکارہ حرا ترین آج ایک بہت ہی پر اعتماد اور پر وقار خاتون کے روپ میں سب کے سامنے ہیں۔ اور اپنی اس کامیابی کا کریڈٹ وہ اپنی والدہ کو دیتی ہیں۔ حرا بتاتی ہیں کہ میں جب چار سال کی تھی تو میرا سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ مجھے اپنی امی کے بغیر نہیں رہنا، میں نے دیکھا تھا کہ شادی کے بعد لڑکیاں دوسرے گھر چلی جاتی ہیں۔ ایک دن جب میں چھوٹی سی تھی اور اپنی امی کی گود میں سر رکھ کر گاڑی میں بیٹھی تھی، میری امی کسی سے میری خالہ کی شادی کے بارے میں بات کر رہی تھیں تو میں نے اچانک زور سے کہا کہ امی میں کبھی شادی نہیں کروں گی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کیوں تو میں نے فوراً جواب دیا کہ میں کسی اور کے گھر نہیں جاؤں گی۔ حرا کا کہنا ہے کہ یہ اس لئے بھی تھا کہ شاید میں ان سے اتنی محبت کرتی تھی کہ یہ تصور ہی بہت تکلیف دہ تھا کہ میں ان سے ایک سیکنڈ کےلئے بھی الگ ہو کر کسی اور کے گھر پر رہوں گی، یہ ایک بہت بڑا خوف تھا میرے بچپن کا۔

